نئی دہلی،2/ فروری (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) کانگریس کے سینئر لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں بجٹ کو لے کرگفتگو کی۔ ابھیشیک منو سنگھوی نے جم کر مرکزی حکومت پر نشانہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہرا رہی ہے کہ 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دو گنا کر دیں گے، اگر اسی بجٹ میں اس کی وضاحت کردیتے توکسانوں کا بھلا ہوسکتا تھا۔ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لئے زراعت میں جی ڈی پی شرح 15 فیصد یا 13 فیصد ہونی چاہئے، اب شرح صرف تین فیصد ہے۔ اس بجٹ میں صرف تین چیزیں ہیں، جملے، جوکس اور جگلری۔ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی بجٹ تقریر طویل تھی،لیکن اس میں گہرائی نہیں تھی۔ 2024 تک معیشت پانچ ٹریلین تک نہیں پہنچ سکتی۔ چھ سال بعدوراثت کی بات کہنا ناکامی دکھاتا ہے۔ 2013 پر الزام لگانا مودی حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ایئر انڈیا کی نیلامی پر ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ ایئر انڈیا کو 2014 سے 2020 تک ٹھیک نہیں کر پائے. ایئر انڈیا کو حکومت اب تک کیوں نہیں بیچ پائی حکومت؟ حکومت کا مکمل پروگرام ایل آئی سی کی تباہی پر مبنی ہے۔ اس میں ملک کے عام آدمی کا پیسہ لگا ہے، آپ کے گھر میں بحران آتا ہے تو سب سے خراب چیز بیچی جاتی ہے لیکن یہ حکومت ملک کی سب سے بہترین چیز کو فروخت کر رہی ہے۔کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ ملک میں خوف اور عدم برداشت کا ماحول ہے۔ 2014 سے پہلے اتنا خوف کا ماحول تھا کیا؟ ایک وزیر گولی کی بات کرتے ہیں اور اگلے دن گولی چل جاتی ہے، کیا اس وقت کوئی آرام سے بات کر سکتا ہے؟ ملک میں جو اس وقت ماحول ہے وہ کانگریس کی دین ہے کیا۔پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی کے شاہین باغ نا جانے کے سوال پر ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ کون کہہ رہا ہے کہ کانگریس کے لیڈر شاہین باغ نہیں گئے؟ بی جے پی اور حکومت کے مطابق تو وہاں تمام غدار ہیں، لیکن وہ لوگ جو آئین کی تمہیدپڑھ رہے ہیں وہ غدار ہیں، ہم شاہین باغ کے ساتھ ہیں، لیکن اگر کوئی تشدد کی بات ہوگی تو ہم اس کے ساتھ نہیں ہیں۔